ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے ہر خاندان سے کم از کم 2 بچوں کی پیدائش کی کیوں کی اپیل؟

آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو نے ہر خاندان سے کم از کم 2 بچوں کی پیدائش کی کیوں کی اپیل؟

Mon, 21 Oct 2024 17:36:20    S.O. News Service

وجئے واڑہ، 21/اکتوبر(ایس او نیوز /ایجنسی) ہندوستان میں بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلے کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت عوام سے بار بار درخواست کرتی رہی ہے کہ وہ دو سے زیادہ بچے پیدا نہ کریں۔ تاہم، آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے ایک تقریب کے دوران ریاست کی ترقی کی رفتار کو بڑھانے کے لیے ہر خاندان سے کم از کم دو یا اس سے زیادہ بچوں کی پیدائش کا ہدف رکھنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست کی معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

دراصل مرکزی حکومت کی ’یوتھ اِن انڈیا-2022‘ رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں 25 کروڑ نوجوان 15 سے 25 سال کے درمیان کے ہیں۔ آنے والے کچھ سال اس میں تیز گراوٹ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نائیڈو نے ریاستی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 2 یا اس سے زائد بچے پیدا کرنے پر غور کریں۔

وزیر اعلیٰ چندرابابو نائیڈو کا کہنا ہے کہ ’’حالانکہ میں نے ماضی میں آبادی کنٹرول کرنے کی وکالت کی، لیکن اب ہمیں مستقبل کے لیے شرح پیدائش بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ریاستی حکومت ایک قانون لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے جس کے تحت صرف 2 یا اس سے زیادہ بچوں والے لوگ ہی مقامی بلدیاتی انتخاب لڑ سکیں گے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ملک میں اوسط شرح پیدائش جہاں 2.1 ہے (یہ فکر کا موضوع نہیں ہے)، وہیں جنوبی ریاستوں میں یہ نمبر گر کر 1.6 (یہ فکر کا موضوع ہے) تک پہنچ گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ نائیڈو نے ریاستی عوام سے زیادہ بچے پیدا کرنے کی گزارش کی ہے۔ مرکز کی ’یوتھ اِن انڈیا-2022‘ رپورٹ کے مطابق 2036 تک ملک کی 34.54 کروڑ آبادی ہی نوجوان ہوگی، جو ابھی 47 فیصد سے زیادہ ہے۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یو این ایف پی اے (اقوام متحدہ آبادی فنڈ) کی انڈیا ایجنگ رپورٹ 2023 کے مطابق 2011 میں ہندوستان میں یوتھ آبادی کی اوسط عمر 24 سال تھی، جو اب 29 سال ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں 2036 تک ہندوستان میں بزرگوں کی آبادی 12.5 فیصد، 2050 تک 19.4 یصد اور صدی کے آخر تک یہ 36 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یعنی آبادی میں ضعیفوں کی تعداد بڑھے گی اور نوجوانوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگی۔


Share: